آپ سے ملیے، آپ ایک عدد پیش امام ہیں، مینارہِ نور، روشنی کا گنبد، دانائی کا فانوس، مظاہرہِ ہدایت، سادگی کا نمونہ، خوش خوراکی چہرے سے ہی عیاں۔
گلاب کو جلاب، چپل کباب، جس نام سے چاہے پکار لیا جائے وہ رہتا گلاب ہی ہے۔ اسی طرح ہمارے پیش امام کو بھی جو چاہے کہہ لیجیے، کوئی فرق نہیں پڑتا، بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ جوں تک نہیں رینگتی۔ آپ کے القابات و خطابات کی طوالت کو ایک جانب رکھتے ہوئے ہم انہیں مولوی چراغ دین کہے دیتے ہیں۔ آپ ایسا چراغ ہیں جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے مگر اپنے نیچے اندھیرا ہی رہتا ہے۔ آپ امتِ مسلمہ کی کہانی کا ایک ایسا اداکار ہیں جو مصنف کی اجازت کے بغیر ہی منظر میں طلوع و غروب ہوتا رہتا ہے۔ آپ تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جو ہر نازک موقع پر صورتِ حال کو امت کے 'وسیع تر' مفاد میں استعمال کرتا ہے۔ آپ امت کا ایک ایسا سرمایہ ہیں کہ جس کی ذات پر تنقید گویا کہ شریعت پر دھاوا بولنے کے مترادف ہے۔
کہتے ہیں کہ حافظِ قرآن کے والدین کی بخشش یقینی ہے۔ یہ بات سنی تو آپ کے والد نے اپنے اعمال کے پیشِ نظر آپ کو حفظ کروانے کا پختہ عزم کر لیا۔ لیکن آپ تھے کہ سارا دن غلیل لے کر چڑی مار بنے پھرتے۔ یا پھر محلے کے آوارہ کتوں کے ساتھ شغل فرماتے۔ بہرحال آپ کے والد نے آپ کو مدرسے میں بٹھا دیا اور قاری صاحب کو باور کرا دیا کہ بچہ تھوڑا لاڈلا ہے۔ چنانچہ آپ کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر عرصہ پانچ سال اور سات مہینے میں حفظ کروایا گیا۔ ناقدین تو کہتے ہیں کہ قاری صاحب نے اپنی عزت بچانے کے لیے زبردستی آپ کو فارغ التحصیل کیا۔ خیر۔۔۔ پھر آپ نے گلستان و بوستان اور حافظ کی چند غزلوں کا اردو ترجمہ مطالعہ فرمایا اور معروف دینی کتب کے نام زبانی یاد کر لیے۔ علم کے اس ذخیرے سے عمر بھر مثالیں اور کہانیاں سنا کر جہلا کی رہنمائی فرماتے رہے۔
آپ کے گلے میں بچپن سے ہی بہت نور تھا۔ اس بات کا آپ کو بخوبی اندازہ تھا، چنانچہ آپ ہر دینی محفل میں اس کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کرتے۔ لوگ بھی آپ کی اس صلاحیت سے بخوبی واقف تھے لہٰذا رشک کے مارے ہوئے منتظمین آپ کو باز رکھنے پر تُلے رہتے۔ پھر بھی آپ کسی نہ کسی طرح مائیک پر حاوی ہو کر قراءت شروع کر دیتے۔ سامعین آپ کی آواز کے لوچ کے سحر میں آ کر نوٹوں کی برسات کر دیتے (مخالفین کہتے ہیں کہ پیسے دے کر چپ کرایا جاتا تھا)۔ اگر کبھی آپ کی جیب حسب توقع بھاری نہ ہوتی تو آپ تلاوت کے بعد پے در پے نعتوں کا سلسلہ شروع فرما دیتے، اور جب تک حاضرین کی جیبیں آپ کے کھیسے کے برابر نہ ہو جاتی، آپ دین سے عشق کا اظہار فرماتے رہتے۔
عمیق مطالعہ نے آپ کو گہری سوچ اور دور اندیشی عطا کر دی تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کالونی کے وسط میں حکومت نے بچوں کا ایک پارک بنایا ہوا تھا۔ آپ کی عرصے سے اس پر گہری نظر تھی مگر اسے مسلسل نظر انداز کرتے رہے کہ کھیل کود بھی لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ۔ لیکن جب آپ کو محلے کی جامع مسجد سے بعض ناگفتنی وجوہات کی بناء پر نکال دیا گیا تو آپ نے فیصلہ کر لیا کہ اب نادان امت کی اصلاح کے لیے ایک اور ادارے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک رات چپکے سے چند جری (مسٹنڈے کہنا خلاف تہذیب ہوگا) نوجوانوں کی مدد سے پارک کے ایک کونے میں ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹیں لگا کر چار دیواری بنا دی اور ایک کونے میں بانس پر دو عدد لاؤڈ سپیکر لٹکا دیے۔ عوام الناس کو اس کاروائی کا علم فجر کے وقت ہوا جب انہوں نے دو مساجد سے آنے والی اذانوں کا مقابلہ سنا۔ یوں لہو و لعب کے شکار پارک کے محض دو تہائی حصہ پر خدا کا ایک اور گھر آباد ہو گیا۔ اسلامی مارشل لاء کا دور تھا اور جنرل صاحب آپ کے پیر و مرشد تھے، کسی کو آپ کے اس اقدام پر انگلی اٹھانے کی جراءت نہ ہوئی۔
عمرِ رفتہ کی بہاریں گزریں تو آپ کو خیال آیا کہ کوئی صدقہ جاریہ منتظم کر کے اس دارِ فانی سے کوچ کریں۔ یعنی ایسا کام کر کے جائیں کہ آپ کی قضاء کے بعد آپ کی اولاد کو مالی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لہٰذا آپ نے شہر کے موقر اخبارات کے صحافیوں کی ایک شاندار دعوت کر ڈالی اور جاتے وقت ہر ایک کو سربمہر لفافہ بھی عنایت کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شام کے ان اخبارات کے پورے دو صفحات میں آپ کی ذات پر مضمون چھپا جس میں آپ کی ایک جہازی سائز تصویر نورانی پس منظر میں لگائی گئی۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا کہ کیسے قدوۃ السالکین زبدۃ العابدین ہادیِ جاہلین مولانا چراغ دین قدس سرہ نے دین کی خدمت کی ہے۔ اور یہ کہ آباء کا پیشہ مسلمانی نہ ہونے کے باوجود کس ذہانت سے آپ نے اپنے دینی ادارے کو قائم کیا اور اسے اتنی ترقی دی کہ آج اس سے ہونے والی آمدنی کروڑوں نہیں تو لاکھوں میں ضرور ہے۔ ایک اور کام آپ نے یہ کیا کہ مسجد کے وسیع صحن کے عین وسط میں اپنے مرشد جنرل ضیاءالحق کے مزار کی طرز پر اپنا مزار اپنی زندگی میں ہی تعمیر کرا دیا (حاسدین کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے بیٹوں سے امید نہیں تھی کہ وہ آپ کی قبر بنوائیں گے) اور مسجد سے متصل اپنے حجرے کو درگاہ کا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عقیدت مندوں کی تعداد دو چند ہو گئی اور چندے کی شرح تین گنا بڑھ گئی۔
آج کل آپ اپنی درگاہ میں تخت پر پڑے جوانی کو یاد کرتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے رہتے ہیں جنہیں آپ کے مریدین برکت کی پھونکیں اور دم درود کہتے ہیں۔ اب آپ اس قدر نرم مزاج ہو گئے ہیں کہ فرشتہِ اجل کو یاد کرتے ہی رقت طاری ہو جاتی ہے اور فرماتے ہیں کہ پتہ نہیں اس کمینے کی بخشش کیسے ہوگی۔
اردو بلاگ
بیانِ حال بذبانِ اردو
اعلانِ بے اعتباری
اس بلاگ کا لکھاری دست بستہ عرض کرتا ہے کہ اس نے محض تفننِ طبع اور شہرت کی خواہش سے مغلوب ہو کر مندرجہ ذیل تحریریں لکھنے کی دل پشوری کی ہے۔
برائے مہربانی یاوہ گوئی کی ان بے تکی مثالوں کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے اور لکھاری کی 'کم عمری' اور نادانی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فتاویٰ جاری کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ شکریہ
برائے مہربانی یاوہ گوئی کی ان بے تکی مثالوں کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے اور لکھاری کی 'کم عمری' اور نادانی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فتاویٰ جاری کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ شکریہ
آپ سے ملیے، آپ ایک بلاگر ہیں
آپ سے ملیے، آپ ایک بلاگر ہیں؛ علم و ہنر کا مرقع، تہذیب و ادب کے دلدادہ، زبان کی چاشنی اور قلم کی روانی آپ پر ختم ہے، لطافت و ظرافت میں کوئی آپ کا ثانی نہیں (ثالث کی بات اور ہے)۔
آپ کو بچپن سے ہی لکھنے کا بہت شوق تھا، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات؛ اس وقت بھی ایسا لکھتے کہ آپ کے استاذ محترم آپ کے لکھے ہوئے پر ایک طویل خط کھینچ کر مزید لکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔ تحریر کے معیار کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تمام کتب شائع کرنے والے آپ کے قلم کا جلال و جمال دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور ہاتھ کھڑے کر کے بولے کہ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ کے ان افکارِ عظمٰی کو سیاہی سے بدنما کریں۔ چنانچہ آپ نے انٹرنیٹ کو رونق بخشی۔
پبلشرز کی ناقدری اور حوادثِ زمانہ کی بے رحمی نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ نوعِ انسانی کی فلاح کا بیڑا اپنے دستِ شفقت میں لیں۔ چنانچہ آپ نے سیاست کی اندھیر نگریوں کو بے نقاب کرنے اور ملک و قوم کو اپنے دقیق تجزیوں سے باخبر کرنے کے لیے دھواں دار تحریریں لکھنا شروع کر دیں۔ ابتدا میں آپ نے چھ مضامین یومیہ کی شرح سے اپنے مخزنِ ہدایت بلاگ پر جہلا کی رہنمائی شروع کی۔ مگر جلد ہی رفتار ماند پڑ گئی کیونکہ عقل سے بے بہرہ قارئین آپ کے فقرات کو عامیانہ اور فرسودہ کہہ کر بے حرمت کرنے لگے، ایک عاقبت نا اندیش نے تو آپ کو گھٹیا اور چوَل تک کہہ دیا۔ یہ دشنام طرازی ایک کم ہمت شخص کو مایوس کرنے کے لیے کافی تھی، مگر آپ چونکہ پختہ عزم کے مالک تھے (والد صاحب بچپن میں پیار سے ڈھیٹ اور ضدی کہا کرتے تھے) چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ لکھنا نہ چھوڑیں گے، البتہ زمانے کی ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے موضوعِ سخن بدل دیا۔
اب آپ نے مسائل کی بنیاد یعنی معاشرتی ناہمواریوں اور سماجی تلخیوں پر بیش بہا جملے لکھنا شروع کیے۔ اوائلِ جوانی میں مضافات کی دوشیزاؤں کو اپنی خوبیوں سے آگاہ کرنے کی کاوشیں کرتے رہتے تھے، اب انہی تجربات کی روشنی میں بدنظری، فحاشی، ڈھٹائی اور دیگر لغویات کو طشت از بام کرنے لگے۔ ہاں کبھی کبھی مرد قارئین کے رکیک حملوں سے بچنے کے لیے یونہی لڑکی پٹانے، ذاتی دفاع اور دوڑنے چُھپنے وغیرہ کے طریقوں پر بھی سیرِ حاصل گفتگو کر دیا کرتے تھے۔ عوام الناس آپ کی سماجی ذمہ داری سے اتنا متاثر ہوئے کہ آپ کے بلاگ پر قارئین کی آمد تین گُنا بڑھ گئی۔ بعد میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری خدمات کی بناء پر اب لوگ ممنوعہ موضوعات پر بھی بحث کرنے لگے ہیں مگر بعض حاسد ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ میں نے بیہودگی کو فروغ دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ میری عزت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، اوپر والے کا کرم ہے ورنہ یہ کمینہ کس قابل ہے۔ (واضح رہے کہ اُن دنوں آپ کے مکان کے اوپر والے حصے میں ایک چھٹا ہوا بدمعاش رہا کرتا تھا اور آپ کی اس سے کافی بنتی تھی)
کچھ ہی عرصہ میں آپ نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب چراغوں میں وہ چمک باقی نہیں ہے، یعنی قارئین پھر سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں تو آپ کو خدا کی یاد آئی۔ مذہب سے قرار واقعی شناسائی تو بچپن سے ہی تھی کیونکہ آباء کا پیشہ مسلمانی تھا، چنانچہ آپ نے دین کا پرچار شروع کیا۔ حاسدین نے پھر واویلا مچانا شروع کر دیا کہ آپ فروعی معاملات کو لے کر امتِ مسلمہ میں فساد پڑوانے لگے ہیں۔ مگر آپ نے باطل کی شورش کے سامنے سر نہ جھکایا اور تیز و تند لہجے میں حقائق یعنی اپنے مسلک کی درستگی ثابت کرنے پر ڈٹے رہے۔ جب احباب نے خفیف انداز میں توجہ دلائی کہ آپ کے اکثر کلمات کے حوالہ جات کسی کتاب میں موجود نہیں ہیں، تو آپ نے وضاحت فرمائی کہ دین کا یہ فہم سینہ بہ سینہ آپ تک منتقل ہوا ہے؛ اور ویسے بھی ایمان کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پر تمام احباب نے معنی خیز انداز میں سر ہلائے۔
شومئی قسمت انہی دنوں وطنِ عزیز میں بعض متنازعہ مذہبی معاملات پر زبردست مہم شروع ہو گئی۔ آپ نے بھی اس امید پر عامتہ المسلمین کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی کہ شاید آپ کو بھی حکومت کسی قابل سمجھ کر دست اندازی کرے اور آپ شہرت کی بلندیوں کو چُھو جائیں۔ مگر جلد ہی آپ جان گئے کہ جو حکومت اپنی ویب سائٹوں کو ہی اپ ڈیٹ نہیں کرتی وہ آپ کے بلاگ کو کہاں درخوئے اعتنا جانے گی۔ ایسی بے قدری پر آپ اتنا سٹ پٹائے کہ زاہدِ خشک سے رندِ رنگیں و سنگیں ہو گئے، یعنی بازار سے سٹیج ڈراموں کی ایک درجن ڈی وی ڈیز لے آئے اور دو چار دن میں ہی سب دیکھ ڈالیں۔
زبان کی سلاست میں تو آپ پہلے ہی یکتا تھے، اب ذومعنی فقرات کی روانی نے آپ کی تحریروں کو عالمِ بلاگ میں روزِ روشن کی طرح تابناک کر دیا۔ آپ نے ہمہ قسم عنوانات پر ایسی ایسی جگتیں رسید کیں کہ پیشہ وروں کے کان بھی لال سُرخ ہو جائیں۔ سوشل نیٹ ورک پر آپ کا حلقہِ احباب وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور آپ لذتِ آشنائی سے ہمہ تن لطف اندوز ہونے لگے۔ پردہ نشین آپ کی صورت سے ہی کترانے لگے اور مے خوار آپ کی تال سے تال ملانے لگے۔ بلاگستان میں آپ نے اپنے لُچر پن سے وہ دھما چوکڑی مچائی کہ ناقدین رقصِ ابلیس سے مماثلت دینے لگے۔ ابلیس کو قیامت تک دوام ہے، یعنی اس کا رقص بھی تب تک جاری رہے گا۔ چنانچہ آپ بھی آج تک اپنے عزم و ہمت کے بل بوتے پر آزادیِ اظہار کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں اور کلامِ واہیات کی روانی، تبصروں کی فراوانی، اور شہرت کی جوانی سے بہرہ ور ہوتے جارہے ہیں۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔
(اگر آپ کو اس تحریر کا چربہ کرنے کا نادر خیال آئے تو لفظ بلاگر کو کالم نگار، رائٹر، اینکر پرسن، سیاستدان، یعنی تمام جملہ مفاسد سے بدل کر حسبِ ضرورت کام لیا جا سکتا ہے)
آپ کو بچپن سے ہی لکھنے کا بہت شوق تھا، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات؛ اس وقت بھی ایسا لکھتے کہ آپ کے استاذ محترم آپ کے لکھے ہوئے پر ایک طویل خط کھینچ کر مزید لکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔ تحریر کے معیار کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تمام کتب شائع کرنے والے آپ کے قلم کا جلال و جمال دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور ہاتھ کھڑے کر کے بولے کہ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ کے ان افکارِ عظمٰی کو سیاہی سے بدنما کریں۔ چنانچہ آپ نے انٹرنیٹ کو رونق بخشی۔
پبلشرز کی ناقدری اور حوادثِ زمانہ کی بے رحمی نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ نوعِ انسانی کی فلاح کا بیڑا اپنے دستِ شفقت میں لیں۔ چنانچہ آپ نے سیاست کی اندھیر نگریوں کو بے نقاب کرنے اور ملک و قوم کو اپنے دقیق تجزیوں سے باخبر کرنے کے لیے دھواں دار تحریریں لکھنا شروع کر دیں۔ ابتدا میں آپ نے چھ مضامین یومیہ کی شرح سے اپنے مخزنِ ہدایت بلاگ پر جہلا کی رہنمائی شروع کی۔ مگر جلد ہی رفتار ماند پڑ گئی کیونکہ عقل سے بے بہرہ قارئین آپ کے فقرات کو عامیانہ اور فرسودہ کہہ کر بے حرمت کرنے لگے، ایک عاقبت نا اندیش نے تو آپ کو گھٹیا اور چوَل تک کہہ دیا۔ یہ دشنام طرازی ایک کم ہمت شخص کو مایوس کرنے کے لیے کافی تھی، مگر آپ چونکہ پختہ عزم کے مالک تھے (والد صاحب بچپن میں پیار سے ڈھیٹ اور ضدی کہا کرتے تھے) چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ لکھنا نہ چھوڑیں گے، البتہ زمانے کی ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے موضوعِ سخن بدل دیا۔
اب آپ نے مسائل کی بنیاد یعنی معاشرتی ناہمواریوں اور سماجی تلخیوں پر بیش بہا جملے لکھنا شروع کیے۔ اوائلِ جوانی میں مضافات کی دوشیزاؤں کو اپنی خوبیوں سے آگاہ کرنے کی کاوشیں کرتے رہتے تھے، اب انہی تجربات کی روشنی میں بدنظری، فحاشی، ڈھٹائی اور دیگر لغویات کو طشت از بام کرنے لگے۔ ہاں کبھی کبھی مرد قارئین کے رکیک حملوں سے بچنے کے لیے یونہی لڑکی پٹانے، ذاتی دفاع اور دوڑنے چُھپنے وغیرہ کے طریقوں پر بھی سیرِ حاصل گفتگو کر دیا کرتے تھے۔ عوام الناس آپ کی سماجی ذمہ داری سے اتنا متاثر ہوئے کہ آپ کے بلاگ پر قارئین کی آمد تین گُنا بڑھ گئی۔ بعد میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری خدمات کی بناء پر اب لوگ ممنوعہ موضوعات پر بھی بحث کرنے لگے ہیں مگر بعض حاسد ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ میں نے بیہودگی کو فروغ دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ میری عزت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، اوپر والے کا کرم ہے ورنہ یہ کمینہ کس قابل ہے۔ (واضح رہے کہ اُن دنوں آپ کے مکان کے اوپر والے حصے میں ایک چھٹا ہوا بدمعاش رہا کرتا تھا اور آپ کی اس سے کافی بنتی تھی)
کچھ ہی عرصہ میں آپ نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب چراغوں میں وہ چمک باقی نہیں ہے، یعنی قارئین پھر سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں تو آپ کو خدا کی یاد آئی۔ مذہب سے قرار واقعی شناسائی تو بچپن سے ہی تھی کیونکہ آباء کا پیشہ مسلمانی تھا، چنانچہ آپ نے دین کا پرچار شروع کیا۔ حاسدین نے پھر واویلا مچانا شروع کر دیا کہ آپ فروعی معاملات کو لے کر امتِ مسلمہ میں فساد پڑوانے لگے ہیں۔ مگر آپ نے باطل کی شورش کے سامنے سر نہ جھکایا اور تیز و تند لہجے میں حقائق یعنی اپنے مسلک کی درستگی ثابت کرنے پر ڈٹے رہے۔ جب احباب نے خفیف انداز میں توجہ دلائی کہ آپ کے اکثر کلمات کے حوالہ جات کسی کتاب میں موجود نہیں ہیں، تو آپ نے وضاحت فرمائی کہ دین کا یہ فہم سینہ بہ سینہ آپ تک منتقل ہوا ہے؛ اور ویسے بھی ایمان کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پر تمام احباب نے معنی خیز انداز میں سر ہلائے۔
شومئی قسمت انہی دنوں وطنِ عزیز میں بعض متنازعہ مذہبی معاملات پر زبردست مہم شروع ہو گئی۔ آپ نے بھی اس امید پر عامتہ المسلمین کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی کہ شاید آپ کو بھی حکومت کسی قابل سمجھ کر دست اندازی کرے اور آپ شہرت کی بلندیوں کو چُھو جائیں۔ مگر جلد ہی آپ جان گئے کہ جو حکومت اپنی ویب سائٹوں کو ہی اپ ڈیٹ نہیں کرتی وہ آپ کے بلاگ کو کہاں درخوئے اعتنا جانے گی۔ ایسی بے قدری پر آپ اتنا سٹ پٹائے کہ زاہدِ خشک سے رندِ رنگیں و سنگیں ہو گئے، یعنی بازار سے سٹیج ڈراموں کی ایک درجن ڈی وی ڈیز لے آئے اور دو چار دن میں ہی سب دیکھ ڈالیں۔
زبان کی سلاست میں تو آپ پہلے ہی یکتا تھے، اب ذومعنی فقرات کی روانی نے آپ کی تحریروں کو عالمِ بلاگ میں روزِ روشن کی طرح تابناک کر دیا۔ آپ نے ہمہ قسم عنوانات پر ایسی ایسی جگتیں رسید کیں کہ پیشہ وروں کے کان بھی لال سُرخ ہو جائیں۔ سوشل نیٹ ورک پر آپ کا حلقہِ احباب وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور آپ لذتِ آشنائی سے ہمہ تن لطف اندوز ہونے لگے۔ پردہ نشین آپ کی صورت سے ہی کترانے لگے اور مے خوار آپ کی تال سے تال ملانے لگے۔ بلاگستان میں آپ نے اپنے لُچر پن سے وہ دھما چوکڑی مچائی کہ ناقدین رقصِ ابلیس سے مماثلت دینے لگے۔ ابلیس کو قیامت تک دوام ہے، یعنی اس کا رقص بھی تب تک جاری رہے گا۔ چنانچہ آپ بھی آج تک اپنے عزم و ہمت کے بل بوتے پر آزادیِ اظہار کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں اور کلامِ واہیات کی روانی، تبصروں کی فراوانی، اور شہرت کی جوانی سے بہرہ ور ہوتے جارہے ہیں۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔
(اگر آپ کو اس تحریر کا چربہ کرنے کا نادر خیال آئے تو لفظ بلاگر کو کالم نگار، رائٹر، اینکر پرسن، سیاستدان، یعنی تمام جملہ مفاسد سے بدل کر حسبِ ضرورت کام لیا جا سکتا ہے)
ملتان میں بلیک واٹر کی تباہ کن سرگرمیاں
وطن عزیز میں بلیک واٹر کی موجودگی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن ملتان میں بلیک واٹر کی سرگرمیاں اتنی شدید ہیں کہ پاکستان کے اور کسی علاقے میں نہیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم پاکستان جو کہ ملتان ہی سے تعلق رکھتے ہیں، اس جانب توجہ نہیں دے رہے۔
آپ جانتے ہیں کہ گرمیوں میں لوگ زیادہ نہاتے ہیں؛ حتٰی کہ وہ بھی جو صرف عید پر ہی نہاتے ہیں (اگر عید گرمیوں میں ہو تو)۔ آندھیاں آتی ہیں جو اپنے ساتھ پورے کا پورا صحرا یعنی بے تحاشا ریت اور مٹی اٹھا کہ لاتی ہیں۔ چنانچہ ہر آندھی کے بعد لوگ پانی کے پائپ اٹھا کر اپنی گاڑیاں، گھروں کی کھڑکیاں، دروازے، فرش اور بال بچے دھونا شروع کر دیتے ہیں (اپنا منہ پھر بھی نہیں دھوتے، ثبوت کے لیے ہمارے سیاستدانوں کی شکلیں دیکھ لیجیے)۔ اس دھونے کے عمل کی وجہ سے لاتعداد ریت، مٹی، پانی، شاپر، ٹوٹی ہوئی جوتیاں، "ساس جو کبھی بہو تھی" کی دوائیاں، شوہر نامراد کی دفتری فائلیں، تالوں کی چابیاں اور بچوں کے جانگیے وغیرہ گٹروں میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتاً بلیک واٹر گٹر کا ڈھکن اٹھا کر باہر آ جاتا ہے۔
یقین کیجیے اتنا نقصان Xe عرف Blackwater نہیں کر رہی جتنا یہ سیوریج کا بلیک واٹر کر رہا ہے۔ ملتان کی سڑکیں اتنی اعلٰی معیار کی ہوتی ہیں کہ ڈسپرین کی گولی کی طرح پانی میں گھلتی ہیں۔ گرمیوں میں جب ہر جگہ بلیک واٹر کا راج ہوتا ہے تو کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار شدہ ان سڑکوں کی اوقات سامنے آنے میں ایک ہفتہ بھی نہیں لگتا۔۔
بندہ گھر سے پپو بچہ بن کے نکلتا ہے، بوٹوں کو آدھا کلو پالش لگا کر چمکایا جاتا ہے، کپڑوں کی استری اتنی شاندار ہوتی ہے کہ پینٹ کی کریز شمشیر برہنہ کی دھار سے زیادہ تیز لگتی ہے۔ موٹر سائیکل پر اس شان سے سوار ہو کر نکلتے ہیں کہ جیسے Knight Rider۔ پر جیسے ہی سڑک پر آتے ہیں سامنے بلیک واٹر صف در صف موجود۔ چنانچہ جب یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو غسل خانے میں جا کر بوٹوں کو لوٹے بھر بھر کر استنجا کرانا پڑتا ہے، یعنی پانی سے دھونا پڑتا ہے۔ رومال گیلا کر کر کے پینٹ کو رگڑا جاتا ہے کہ کسی طرح گندے پانی کے داغ اتریں۔ اور شہزادی بائیک کا جو منہ کالا ہوتا ہے اسے دیکھ کر تو خون کے آنسو آتے ہیں۔
اب آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ وہ بلیک واٹر ایجنسی زیادہ خطرناک ہے یا یہ سیوریج کا بلیک واٹر؟ کروڑوں روپے کی سڑکیں، گلیاں تباہ، سیوریج کا نظام درہم برہم، ذہنی کوفت و چڑچڑا پن۔ یعنی فُل ستیاناس پروگرام۔۔
آپ جانتے ہیں کہ گرمیوں میں لوگ زیادہ نہاتے ہیں؛ حتٰی کہ وہ بھی جو صرف عید پر ہی نہاتے ہیں (اگر عید گرمیوں میں ہو تو)۔ آندھیاں آتی ہیں جو اپنے ساتھ پورے کا پورا صحرا یعنی بے تحاشا ریت اور مٹی اٹھا کہ لاتی ہیں۔ چنانچہ ہر آندھی کے بعد لوگ پانی کے پائپ اٹھا کر اپنی گاڑیاں، گھروں کی کھڑکیاں، دروازے، فرش اور بال بچے دھونا شروع کر دیتے ہیں (اپنا منہ پھر بھی نہیں دھوتے، ثبوت کے لیے ہمارے سیاستدانوں کی شکلیں دیکھ لیجیے)۔ اس دھونے کے عمل کی وجہ سے لاتعداد ریت، مٹی، پانی، شاپر، ٹوٹی ہوئی جوتیاں، "ساس جو کبھی بہو تھی" کی دوائیاں، شوہر نامراد کی دفتری فائلیں، تالوں کی چابیاں اور بچوں کے جانگیے وغیرہ گٹروں میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتاً بلیک واٹر گٹر کا ڈھکن اٹھا کر باہر آ جاتا ہے۔
یقین کیجیے اتنا نقصان Xe عرف Blackwater نہیں کر رہی جتنا یہ سیوریج کا بلیک واٹر کر رہا ہے۔ ملتان کی سڑکیں اتنی اعلٰی معیار کی ہوتی ہیں کہ ڈسپرین کی گولی کی طرح پانی میں گھلتی ہیں۔ گرمیوں میں جب ہر جگہ بلیک واٹر کا راج ہوتا ہے تو کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار شدہ ان سڑکوں کی اوقات سامنے آنے میں ایک ہفتہ بھی نہیں لگتا۔۔
بندہ گھر سے پپو بچہ بن کے نکلتا ہے، بوٹوں کو آدھا کلو پالش لگا کر چمکایا جاتا ہے، کپڑوں کی استری اتنی شاندار ہوتی ہے کہ پینٹ کی کریز شمشیر برہنہ کی دھار سے زیادہ تیز لگتی ہے۔ موٹر سائیکل پر اس شان سے سوار ہو کر نکلتے ہیں کہ جیسے Knight Rider۔ پر جیسے ہی سڑک پر آتے ہیں سامنے بلیک واٹر صف در صف موجود۔ چنانچہ جب یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو غسل خانے میں جا کر بوٹوں کو لوٹے بھر بھر کر استنجا کرانا پڑتا ہے، یعنی پانی سے دھونا پڑتا ہے۔ رومال گیلا کر کر کے پینٹ کو رگڑا جاتا ہے کہ کسی طرح گندے پانی کے داغ اتریں۔ اور شہزادی بائیک کا جو منہ کالا ہوتا ہے اسے دیکھ کر تو خون کے آنسو آتے ہیں۔
اب آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ وہ بلیک واٹر ایجنسی زیادہ خطرناک ہے یا یہ سیوریج کا بلیک واٹر؟ کروڑوں روپے کی سڑکیں، گلیاں تباہ، سیوریج کا نظام درہم برہم، ذہنی کوفت و چڑچڑا پن۔ یعنی فُل ستیاناس پروگرام۔۔
مسیحا کا انتظار کیوں؟
حضرتِ انسان کی خامیوں میں سے ایک خامی یہ ہے کہ انسان اکثر اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتا ہے۔ وہ سب صلاحیتیں، خوبیاں، مہارتیں اور قابلیتیں جو اللہ تعالٰی نے انسان کو ودیعت کی ہیں، ان کے باوجود انسان اپنی ذات کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
انسان توجہ کا پیاسا ہے، مادی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اسے خدا کی ضرورت ہے، ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو اس کا خیال رکھے، مشکل میں اس کی مدد کرے، اس کی خواہشات پوری کرے، اللہ انسان کی مدد کرتا ہے۔ انسان اللہ کو محسوس کرتا ہے لیکن اسے مادی صورت میں دیکھ نہیں سکتا۔ اس لیے وہ صنم تراشتا ہے، ایسے بت بناتا ہے جن میں اسے خدا کی شبیہ نظر آتی ہے، اپنے خدا کو مادی شکل میں دیکھنے کے لیے جھوٹے مجسمے تخلیق کرتا ہے۔ کسی کا صنم عورت ہے تو کسی کا پیسہ، کوئی طاقت کا پجاری ہے تو کوئی شہرت کا۔ خدا کو کون پوچھتا ہے؟
وہ لوگ جو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں کرتے اور شرک میں مبتلا بھی نہیں ہونا چاہتے، ایسے لوگ مسیحا کی راہ دیکھتے ہیں۔ مافوق الفطرت طاقتوں کے حامل انسان کی تلاش کرتے ہیں جو ان کے مسائل حل کرے، ان کی رہنمائی کرے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھائے۔ ایسے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں اور جب ان سے کچھ کرنے کو کہا جائے تو ایک ہاتھ اٹھا کر مکھی اڑا کر کہتے ہیں کہ "ہم سے یہ نہیں ہو سکتا؛ ہم میں اتنی قابلیت نہیں، میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں، بھائی صاحب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، او یار پہلے پیٹ تو بھرنے دے۔"
میرا یقین ہے کہ ہر انسان کو اللہ نے اتنی صلاحیتیں دی ہیں کہ وہ ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ میں آپ کو ایک کرسی بنانے کا کہتا ہوں، آپ کو لکڑی اور اوزار دے دیتا ہوں، آپ کو سکھا دیتا ہوں کہ کرسی بنانی کیسے ہے، اب اگر آپ کی نیت ہی نہ ہو اور آپ کو اپنی ذات پر اعتماد ہی نہ ہو تو میں کیسے آپ سے کرسی بنوا سکتا ہوں؟ اللہ نے انسان کو اوزار دے دیے ہیں، اسے اوزاروں کا استعمال سکھا دیا ہے، اب اگر انسان اپنا دماغ استعمال نہ کرے، اسے اپنی ذات پر اعتماد ہی نہ ہو، وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دوسروں سے امیدیں لگائے، تو اللہ ایسے شخص کا کیا کرے۔
ہماری پوری کی پوری قوم اس انتظار میں ہے کہ کوئی بندہ آئے، ہماری ٹانگیں پکڑ کر چارپائی سے نیچے کرے، ہماری بغلوں میں ہاتھ ڈال کر ہمیں کھڑا کرے، اپنے کندھے پر ہمیں بٹھا کر ہمارا پھیلایا ہوا گند صاف کرے اور پھر سے ہمیں صاف ستھرے نرم و گرم بستر پر لٹا دے تا کہ ہم دوبارہ آرام کی نیند سو سکیں۔
آپ قیامت تک انتظار کر لیں، نہ تو اللہ خود آ کر یہ کام کرے گا اور نہ ہی اپنے فرشتے آپ کی خدمت کے لیے بھیجے گا۔ اگر آپ اپنی حالت سدھارنا چاہتے ہیں تو خود کچھ کیجیے ورنہ جان لیجیے کہ قیامت تک پٹتے رہیں گے۔ ہماری قوم تو ایسی ہے کہ یہاں اب انگریز بھی دوبارہ نہیں آنے والا اور نہ ہی کبھی امریکہ اس ملک کو اپنی ریاست بنائے گا۔ وہ باہر بیٹھ کر ہم پر ہمارے ہی "لوٹوں" کے ذریعے حکومت کرے گا اور اپنا الو سیدھا کرے گا۔ اس میں اس کا قصور بھی تو نہیں۔ ہم خود ہی ایسے "صارفین" کی تلاش میں ہیں جو ہمارا زیادہ سے زیادہ ریٹ لگائیں، پھر چاہے ہماری ایسی تیسی کر دیں ہماری بلا سے۔
اگر ہم لوگ واقعی اپنے ساتھ مخلص ہیں تو ہمیں مسیحا کا راستہ دیکھنے کی بجائے اپنے آپ پر اعتماد کرنا چاہیے، اپنے آپ کو انفرادی سطح پر ٹھیک کرنا چاہیے، جب ہم اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں کو اور اپنے دوستوں کو ٹھیک کر لیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، یقین کیجیے۔
انسان توجہ کا پیاسا ہے، مادی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اسے خدا کی ضرورت ہے، ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو اس کا خیال رکھے، مشکل میں اس کی مدد کرے، اس کی خواہشات پوری کرے، اللہ انسان کی مدد کرتا ہے۔ انسان اللہ کو محسوس کرتا ہے لیکن اسے مادی صورت میں دیکھ نہیں سکتا۔ اس لیے وہ صنم تراشتا ہے، ایسے بت بناتا ہے جن میں اسے خدا کی شبیہ نظر آتی ہے، اپنے خدا کو مادی شکل میں دیکھنے کے لیے جھوٹے مجسمے تخلیق کرتا ہے۔ کسی کا صنم عورت ہے تو کسی کا پیسہ، کوئی طاقت کا پجاری ہے تو کوئی شہرت کا۔ خدا کو کون پوچھتا ہے؟
وہ لوگ جو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں کرتے اور شرک میں مبتلا بھی نہیں ہونا چاہتے، ایسے لوگ مسیحا کی راہ دیکھتے ہیں۔ مافوق الفطرت طاقتوں کے حامل انسان کی تلاش کرتے ہیں جو ان کے مسائل حل کرے، ان کی رہنمائی کرے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھائے۔ ایسے لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں اور جب ان سے کچھ کرنے کو کہا جائے تو ایک ہاتھ اٹھا کر مکھی اڑا کر کہتے ہیں کہ "ہم سے یہ نہیں ہو سکتا؛ ہم میں اتنی قابلیت نہیں، میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں، بھائی صاحب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، او یار پہلے پیٹ تو بھرنے دے۔"
میرا یقین ہے کہ ہر انسان کو اللہ نے اتنی صلاحیتیں دی ہیں کہ وہ ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ میں آپ کو ایک کرسی بنانے کا کہتا ہوں، آپ کو لکڑی اور اوزار دے دیتا ہوں، آپ کو سکھا دیتا ہوں کہ کرسی بنانی کیسے ہے، اب اگر آپ کی نیت ہی نہ ہو اور آپ کو اپنی ذات پر اعتماد ہی نہ ہو تو میں کیسے آپ سے کرسی بنوا سکتا ہوں؟ اللہ نے انسان کو اوزار دے دیے ہیں، اسے اوزاروں کا استعمال سکھا دیا ہے، اب اگر انسان اپنا دماغ استعمال نہ کرے، اسے اپنی ذات پر اعتماد ہی نہ ہو، وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دوسروں سے امیدیں لگائے، تو اللہ ایسے شخص کا کیا کرے۔
ہماری پوری کی پوری قوم اس انتظار میں ہے کہ کوئی بندہ آئے، ہماری ٹانگیں پکڑ کر چارپائی سے نیچے کرے، ہماری بغلوں میں ہاتھ ڈال کر ہمیں کھڑا کرے، اپنے کندھے پر ہمیں بٹھا کر ہمارا پھیلایا ہوا گند صاف کرے اور پھر سے ہمیں صاف ستھرے نرم و گرم بستر پر لٹا دے تا کہ ہم دوبارہ آرام کی نیند سو سکیں۔
آپ قیامت تک انتظار کر لیں، نہ تو اللہ خود آ کر یہ کام کرے گا اور نہ ہی اپنے فرشتے آپ کی خدمت کے لیے بھیجے گا۔ اگر آپ اپنی حالت سدھارنا چاہتے ہیں تو خود کچھ کیجیے ورنہ جان لیجیے کہ قیامت تک پٹتے رہیں گے۔ ہماری قوم تو ایسی ہے کہ یہاں اب انگریز بھی دوبارہ نہیں آنے والا اور نہ ہی کبھی امریکہ اس ملک کو اپنی ریاست بنائے گا۔ وہ باہر بیٹھ کر ہم پر ہمارے ہی "لوٹوں" کے ذریعے حکومت کرے گا اور اپنا الو سیدھا کرے گا۔ اس میں اس کا قصور بھی تو نہیں۔ ہم خود ہی ایسے "صارفین" کی تلاش میں ہیں جو ہمارا زیادہ سے زیادہ ریٹ لگائیں، پھر چاہے ہماری ایسی تیسی کر دیں ہماری بلا سے۔
اگر ہم لوگ واقعی اپنے ساتھ مخلص ہیں تو ہمیں مسیحا کا راستہ دیکھنے کی بجائے اپنے آپ پر اعتماد کرنا چاہیے، اپنے آپ کو انفرادی سطح پر ٹھیک کرنا چاہیے، جب ہم اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں کو اور اپنے دوستوں کو ٹھیک کر لیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، یقین کیجیے۔
اندھا دُھند تعلیم
مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں کہ ان کا ایک ہم جماعت ہر مضمون میں "میرا دوست" چھاپ دیتا تھا۔ مثلاً اگر گاؤں پر مضمون لکھنا ہوتا تو وہ لڑکا اسے یوں شروع کرتا کہ میرا گاؤں لاہور کے قریب واقع ہے، اس میں میرے گھر کے ساتھ ہی میرا دوست مشتاق رہتا ہے، مشتاق میرا بہترین دوست ہے، اس کے تین بھائی ہیں۔۔۔" ایک دن استاد نے اسے کہا کہ آج تم نے "ہوائی جہاز کا سفر" پر مضمون لکھنا ہے اور اگر تم نے اس میں مشتاق کو ڈالا تو تمہاری خیر نہیں۔
اب جی شاگرد نے مضمون لکھنا شروع کیا۔۔ مارچ کی آٹھ تاریخ کو ہم نے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی جانے کا پروگرام بنایا۔ ہم گھر سے ٹیکسی میں سوار ہوئے، ٹیکسی میں مشتاق نہیں تھا۔ جب ہم ایئر پورٹ پر پہنچے تو مشتاق وہاں بھی نہیں تھا۔ جب ہم ہوائی جہاز میں سوار ہونے لگے تو وہاں بھی مشتاق نہیں تھا۔ ہوائی جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا اور فضا میں بلند ہو گیا۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو نیچے مشتاق کھڑا تھا۔ مشتاق میرا بہترین دوست ہے، اس کے تین بھائی ہیں۔ اس کے والد۔۔۔۔"
انگریزی کے لفظ Replication کو اردو میں غالباً "چربہ" کہتے ہیں۔ ہم نے پہلی جماعت سے لے کر بی ایس سی تک یہی سیکھا کہ خُلاصوں میں لکھے گئے مضامین کو رٹا مارو اور اگر کوئی مضمون "آؤٹ آف خلاصہ" آ جائے تو اس سے ملتے جسے کسی مضمون کا Replica یعنی چربہ بنا کر پرچے کے صفحے کالے کر دو۔۔ ان خلاصوں سے خلاصی ماسٹرز میں آ کر ہوئی۔
ان خلاصوں میں جو مضامین لکھے ہوتے تھے، ان میں "تنوع" پیدا کرنے کے لیے قرآنی آیات، احادیث، اشعار اور اقوال گاہے بگاہے fit کیے جاتے تھے۔ اکثر اشعار و اقوال کے ساتھ لکھا ہوتا تھا کہ بقولِ شخصے انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ میں ایف ایس سی تک یہ سمجھتا رہا کہ دانتے اور گوئٹے کی طرح یہ شخصے بھی کوئی اطالوی یا جرمن فلسفی تھا۔ تعلیم کا معیار دیکھیے کہ کسی استاد نے نہیں بتایا کہ شخصے کا مطلب ہوتا ہے "کوئی شخص"۔
مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی استاد نے کسی نظم کی تشریح کی ہو۔ ہم خلاصوں سے ہی "تشریحوں" کو رٹا مارتے تھے اور کبھی اپنے دماغ پر زور ڈال کر original تشریح کرتے تو وہ کچھ اس طرح کی ہوتی۔۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا۔۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ہمارے یار کا وصال ہو جاتا تو ہم نویں کُڑی لے آتے، پر ہماری قسمت۔۔۔
حکومت سے کہہ دو ان استادوں کو ڈھکے۔۔ یہ قوم کے نونہالوں کا تراہ کڈھ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام تاثر یہ ہے کہ جس شخص کو "اچھا روزگار" نہیں ملتا وہ پڑھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ بہتر معاش کے لیے اکثر یونیورسٹی سے نکلنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ جس شخص نے انڈسٹری میں صرف دو ماہ internship کی ہوتی ہے، وہ ہمیں بڑے وثوق سے بزنس پڑھا رہا ہوتا ہے۔ اکثر اساتذہ تو یونیورسٹی آنے سے پہلے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ آج پڑھانا کیا ہے۔ کلاس میں آئے تو کتاب کھولی اور ہوبہو وہی الفاظ دہرانا شروع کر دیے، حتٰی کہ مثالیں بھی وہ دیتے جو کتاب میں لکھی ہیں۔ انڈسٹری گئی اپنے گھر۔ ایسے میں ہمارے اندر کیا قابلیت پیدا ہو گی۔
ہمارے ایک استاد نے "طریقہِ رائج الوقت" چھوڑ کر سمجھا سمجھا کر پڑھانا شروع کیا تو کلاس کے پیٹ میں بل پڑنا شروع ہو گئے اور ٹیچر کو اسی پرانے طریقے یعنی طوطے کی طرح کتاب پڑھنے پر لے آئے۔ میں نے اس کی مخالفت کی اور استاد محترم کو قائل کر لیا کہ سمجھا کر پڑھایا کریں۔ اب جناب استاد کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے چنانچہ سب میرے پیچھے پڑ گئے کہ تم ہمیں فیل کراؤ گے۔ کچھ دوستوں نے تو مجھ سے بول چال ہی بند کر دی۔
اب جی شاگرد نے مضمون لکھنا شروع کیا۔۔ مارچ کی آٹھ تاریخ کو ہم نے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی جانے کا پروگرام بنایا۔ ہم گھر سے ٹیکسی میں سوار ہوئے، ٹیکسی میں مشتاق نہیں تھا۔ جب ہم ایئر پورٹ پر پہنچے تو مشتاق وہاں بھی نہیں تھا۔ جب ہم ہوائی جہاز میں سوار ہونے لگے تو وہاں بھی مشتاق نہیں تھا۔ ہوائی جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا اور فضا میں بلند ہو گیا۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو نیچے مشتاق کھڑا تھا۔ مشتاق میرا بہترین دوست ہے، اس کے تین بھائی ہیں۔ اس کے والد۔۔۔۔"
انگریزی کے لفظ Replication کو اردو میں غالباً "چربہ" کہتے ہیں۔ ہم نے پہلی جماعت سے لے کر بی ایس سی تک یہی سیکھا کہ خُلاصوں میں لکھے گئے مضامین کو رٹا مارو اور اگر کوئی مضمون "آؤٹ آف خلاصہ" آ جائے تو اس سے ملتے جسے کسی مضمون کا Replica یعنی چربہ بنا کر پرچے کے صفحے کالے کر دو۔۔ ان خلاصوں سے خلاصی ماسٹرز میں آ کر ہوئی۔
ان خلاصوں میں جو مضامین لکھے ہوتے تھے، ان میں "تنوع" پیدا کرنے کے لیے قرآنی آیات، احادیث، اشعار اور اقوال گاہے بگاہے fit کیے جاتے تھے۔ اکثر اشعار و اقوال کے ساتھ لکھا ہوتا تھا کہ بقولِ شخصے انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ میں ایف ایس سی تک یہ سمجھتا رہا کہ دانتے اور گوئٹے کی طرح یہ شخصے بھی کوئی اطالوی یا جرمن فلسفی تھا۔ تعلیم کا معیار دیکھیے کہ کسی استاد نے نہیں بتایا کہ شخصے کا مطلب ہوتا ہے "کوئی شخص"۔
مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی استاد نے کسی نظم کی تشریح کی ہو۔ ہم خلاصوں سے ہی "تشریحوں" کو رٹا مارتے تھے اور کبھی اپنے دماغ پر زور ڈال کر original تشریح کرتے تو وہ کچھ اس طرح کی ہوتی۔۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا۔۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ہمارے یار کا وصال ہو جاتا تو ہم نویں کُڑی لے آتے، پر ہماری قسمت۔۔۔
حکومت سے کہہ دو ان استادوں کو ڈھکے۔۔ یہ قوم کے نونہالوں کا تراہ کڈھ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام تاثر یہ ہے کہ جس شخص کو "اچھا روزگار" نہیں ملتا وہ پڑھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ بہتر معاش کے لیے اکثر یونیورسٹی سے نکلنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ جس شخص نے انڈسٹری میں صرف دو ماہ internship کی ہوتی ہے، وہ ہمیں بڑے وثوق سے بزنس پڑھا رہا ہوتا ہے۔ اکثر اساتذہ تو یونیورسٹی آنے سے پہلے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ آج پڑھانا کیا ہے۔ کلاس میں آئے تو کتاب کھولی اور ہوبہو وہی الفاظ دہرانا شروع کر دیے، حتٰی کہ مثالیں بھی وہ دیتے جو کتاب میں لکھی ہیں۔ انڈسٹری گئی اپنے گھر۔ ایسے میں ہمارے اندر کیا قابلیت پیدا ہو گی۔
ہمارے ایک استاد نے "طریقہِ رائج الوقت" چھوڑ کر سمجھا سمجھا کر پڑھانا شروع کیا تو کلاس کے پیٹ میں بل پڑنا شروع ہو گئے اور ٹیچر کو اسی پرانے طریقے یعنی طوطے کی طرح کتاب پڑھنے پر لے آئے۔ میں نے اس کی مخالفت کی اور استاد محترم کو قائل کر لیا کہ سمجھا کر پڑھایا کریں۔ اب جناب استاد کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے چنانچہ سب میرے پیچھے پڑ گئے کہ تم ہمیں فیل کراؤ گے۔ کچھ دوستوں نے تو مجھ سے بول چال ہی بند کر دی۔
علم کی پیاس کون بجھائے گا
ہماری گلی میں ایک شخص چھلیاں بیچنے آتا ہے، ریڑھی پر بڑا سا سِلوَر سٹیل کا دیگچہ ہوتا ہے جس میں ابلی ہوئی مکئی ہوتی ہے۔ آج صبح میں اپنی چھوٹی بہن کو کالج چھوڑنے جا رہا تھا تو دیکھا کہ وہی شخص اپنی پانچ چھ سال کی بچی کو سکول چھوڑنے جا رہا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ آج کل لوگ چاہے غریب ہیں مگر اپنے بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں۔
میں جب سائیکل پر تلمبہ جا رہا تھا تو بہت سی ایسی چیزیں دیکھیں جنہیں تیز رفتار گاڑی میں سفر کرتے ہوئے نظر انداز کر جاتا ہوں۔ انہی میں ایک چیز میں نے یہ نوٹ کی کہ دیہات میں بہت سے بچے اور بچیاں سکولوں سے واپس آ رہے تھے۔ ہر طرف کھیت اور کچے مکان تھے اور اس ماحول میں بچے سکول کی وردیاں پہنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
آج اس ریڑھی والے شخص کے جذبے کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ شخص نجانے کتنی امیدوں کے ساتھ اپنی بچی کو سکول لے کر جا رہا ہے کہ یہ علم حاصل کرے گی، بڑی ہو کر کوئی بڑا کام کرے گی، خوشحال زندگی گزارے گی۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ سکول تو جا رہی ہے لیکن کیا یہ واقعی وہاں علم حاصل کر پائے گی؟ کیا اسے وہاں ایسی تعلیم ملے گی جو واقعی اس کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کر سکے؟ مجھے اس کے جواب میں ایک بڑا سا "نہیں" ملا۔
میں نے ابھی تک کسی "پوش" تعلیمی ادارے کو اندر سے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان اداروں کے نظام کو پرکھا ہے۔ مجھے انہیں جانچنے کا شوق ہے۔ لیکن یہ ادارے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ میں نے سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں کو دیکھا ہے جو ٹڈی دل کی طرح شہروں اور دیہاتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز تک دیکھ چکا ہوں اور ہر مرحلے پر مایوس سے مایوس تر ہوا ہوں۔
میرا بارہ سال کا بھانجا جس پرائیوٹ سکول میں پڑھتا ہے وہ شہر کا مشہور سکول ہے۔ اس سکول کی ہمارے علاقے میں 6 شاخیں ہیں، مرغیوں کے ان 6 ڈربوں میں بچے کبوتروں کی طرح داخل ہوتے ہیں۔ میرا بھانجا آٹھویں جماعت میں ہے، نرسری سے لے کر اب تک متواتر انگلش میڈیم کتابیں پڑھتا آیا ہے، ہر بار کلاس میں فرسٹ آتا ہے لیکن انگریزی کے بنیادی اصولوں سے ہی واقف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کلاس کے کسی بچے کو انگریزی کی ذرا سی بھی سمجھ بوجھ ہے۔ اس بچے کی ماہانہ فیس سات آٹھ سو روپے ہے، کتابوں وغیرہ کے خرچے الگ ہیں۔ اس بچے کے ماشاءاللہ دو اور بھائی ہیں جن کی تعلیم کا خرچہ اسی طرح ہے۔
میں ساڑھے چھ سال کا تھا تو قرآن مجید ناظرہ ختم کر لیا تھا اور پھر گرمیوں کی چھٹیوں میں قصص الانبیا کو ایسے پڑھا تھا جیسے بچے آئس کریم کھاتے ہیں۔ اس کے بعد آنگلو بانگلو، چھن چھنگلو، عمرو عیار، افراسیاب اور بچوں کے سینکڑوں رسالوں کو دیمک کی طرح چاٹ گیا۔ آٹھ سال کا تھا تو ابو کو سیرت رسول تحفہ میں ملی، ابو نے مجھے وہ کتاب پکڑا دی اور میں اسے بھی گھول کے پی گیا۔ چوتھی جماعت میں تھا تو عمران سیریز کا چسکا لگا۔ لمبی کہانی ہے، پتہ نہیں کتنی کتابیں، رسالے، کہانیاں، ناول "پھڑکا" ڈالے۔ بارہ سال کا تھا تو میرا جنرل نالج اتنا تھا کہ اتنا آج میری بزنس کی کلاس کے استادوں کے پاس بھی نہ ہوگا۔
آج میں اپنے بھانجوں، کزنوں، دوستوں اور قرب و جوار کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔ کسی شخص کو کسی بات کا پتہ ہی نہیں ہے۔ آپ کسی کو روک کر ابن بطوطہ کا پوچھ لیں تو وہ یہ عجیب و غریب نام سن کر ہنسنے لگ جائے گا۔ کسی سے Hannibal کا ذکر کریں تو وہ اپنی eye balls گھمانے لگ جائے گا۔ چلیے انہیں چھوڑیے یہ تو باہر کے لوگ ہیں، کسی مسلمان سے یہ پوچھ لیجیے کہ سیرت رسول یا قرآن کا ترجمہ کبھی پڑھا ہے؟ تو وہ سر کھجانے لگ جائے گا۔ اور پھر یہ کہہ کر چلا جائے گا کہ جا یار سر نہ کھا پہلے بہت ٹینشن ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم جو اتنا سرمایہ اور وقت بچوں کو "پڑھانے" پر لگا رہے ہیں، اس سے ان کو اس کے علاوہ کیا فائدہ ہے کہ ڈگری لیں اور نوکری کریں؟ یہ جو "پڑھانا" ہے اس میں "سِکھانا" کب شامل ہوگا؟ ہر شخص رٹا لگانے پر لگا ہوا ہے، علم کب حاصل کرے گا؟ آج کس نوجوان کے پاس علم ہے؟ ہاں علم ہے تو موبائل فون کا، گانوں کا، فلموں کا۔ زندگی کا علم کس کے پاس ہے؟ ہم یہاں کیوں آئے ہیں یہ کسے پتا ہے؟ سینہ تان کر اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے اپنے نبی کے اسوہ حسنہ سے کس قدر بہرہ ور ہیں؟ الماری کی اوپر والی شیلف پر جو غلاف میں لپٹی کتاب رکھی ہے، کوئی کیوں نہیں سوچتا کہ یہ اس رب کے الفاظ ہیں جس نے اسے اور یہ دنیا بنائی۔ وہ خدا تم سے ڈائریکٹ باتیں کرنا چاہتا ہے مگر تم اس کی سنتے ہی نہیں، اس کی کتاب کو لفٹ ہی نہیں کراتے۔ جیسے قرآن کی عربی کو طوطے کی طرح پڑھتے جاتے ہیں ویسے ہی اپنے سکول کالج یونیورسٹی کی کتابوں کو پڑھتے ہیں، کوئی اس بحر علوم کے اندر غوطہ کیوں نہیں لگاتا؟ کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مجھے اس مضمون کو رٹا مارنے کی بجائے سمجھنا چاہیے، دماغ میں بٹھانا چاہیے۔
میں آج شاہ صاحب سے کہہ رہا تھا کہ تم نے فرسٹ آ کر کون سا تیر مار لیا، پورے سکول میں مشہور تھے کہ یہ بچہ بہت ذہین ہے، بتاؤ اب تک کیا سیکھا ہے۔ مجھے دیکھو میں نے ماریں کھا لیں لیکن پڑھا نہیں یعنی علم کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ D:
میں جب سائیکل پر تلمبہ جا رہا تھا تو بہت سی ایسی چیزیں دیکھیں جنہیں تیز رفتار گاڑی میں سفر کرتے ہوئے نظر انداز کر جاتا ہوں۔ انہی میں ایک چیز میں نے یہ نوٹ کی کہ دیہات میں بہت سے بچے اور بچیاں سکولوں سے واپس آ رہے تھے۔ ہر طرف کھیت اور کچے مکان تھے اور اس ماحول میں بچے سکول کی وردیاں پہنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
آج اس ریڑھی والے شخص کے جذبے کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ شخص نجانے کتنی امیدوں کے ساتھ اپنی بچی کو سکول لے کر جا رہا ہے کہ یہ علم حاصل کرے گی، بڑی ہو کر کوئی بڑا کام کرے گی، خوشحال زندگی گزارے گی۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ سکول تو جا رہی ہے لیکن کیا یہ واقعی وہاں علم حاصل کر پائے گی؟ کیا اسے وہاں ایسی تعلیم ملے گی جو واقعی اس کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کر سکے؟ مجھے اس کے جواب میں ایک بڑا سا "نہیں" ملا۔
میں نے ابھی تک کسی "پوش" تعلیمی ادارے کو اندر سے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان اداروں کے نظام کو پرکھا ہے۔ مجھے انہیں جانچنے کا شوق ہے۔ لیکن یہ ادارے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ میں نے سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں کو دیکھا ہے جو ٹڈی دل کی طرح شہروں اور دیہاتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز تک دیکھ چکا ہوں اور ہر مرحلے پر مایوس سے مایوس تر ہوا ہوں۔
میرا بارہ سال کا بھانجا جس پرائیوٹ سکول میں پڑھتا ہے وہ شہر کا مشہور سکول ہے۔ اس سکول کی ہمارے علاقے میں 6 شاخیں ہیں، مرغیوں کے ان 6 ڈربوں میں بچے کبوتروں کی طرح داخل ہوتے ہیں۔ میرا بھانجا آٹھویں جماعت میں ہے، نرسری سے لے کر اب تک متواتر انگلش میڈیم کتابیں پڑھتا آیا ہے، ہر بار کلاس میں فرسٹ آتا ہے لیکن انگریزی کے بنیادی اصولوں سے ہی واقف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کلاس کے کسی بچے کو انگریزی کی ذرا سی بھی سمجھ بوجھ ہے۔ اس بچے کی ماہانہ فیس سات آٹھ سو روپے ہے، کتابوں وغیرہ کے خرچے الگ ہیں۔ اس بچے کے ماشاءاللہ دو اور بھائی ہیں جن کی تعلیم کا خرچہ اسی طرح ہے۔
میں ساڑھے چھ سال کا تھا تو قرآن مجید ناظرہ ختم کر لیا تھا اور پھر گرمیوں کی چھٹیوں میں قصص الانبیا کو ایسے پڑھا تھا جیسے بچے آئس کریم کھاتے ہیں۔ اس کے بعد آنگلو بانگلو، چھن چھنگلو، عمرو عیار، افراسیاب اور بچوں کے سینکڑوں رسالوں کو دیمک کی طرح چاٹ گیا۔ آٹھ سال کا تھا تو ابو کو سیرت رسول تحفہ میں ملی، ابو نے مجھے وہ کتاب پکڑا دی اور میں اسے بھی گھول کے پی گیا۔ چوتھی جماعت میں تھا تو عمران سیریز کا چسکا لگا۔ لمبی کہانی ہے، پتہ نہیں کتنی کتابیں، رسالے، کہانیاں، ناول "پھڑکا" ڈالے۔ بارہ سال کا تھا تو میرا جنرل نالج اتنا تھا کہ اتنا آج میری بزنس کی کلاس کے استادوں کے پاس بھی نہ ہوگا۔
آج میں اپنے بھانجوں، کزنوں، دوستوں اور قرب و جوار کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔ کسی شخص کو کسی بات کا پتہ ہی نہیں ہے۔ آپ کسی کو روک کر ابن بطوطہ کا پوچھ لیں تو وہ یہ عجیب و غریب نام سن کر ہنسنے لگ جائے گا۔ کسی سے Hannibal کا ذکر کریں تو وہ اپنی eye balls گھمانے لگ جائے گا۔ چلیے انہیں چھوڑیے یہ تو باہر کے لوگ ہیں، کسی مسلمان سے یہ پوچھ لیجیے کہ سیرت رسول یا قرآن کا ترجمہ کبھی پڑھا ہے؟ تو وہ سر کھجانے لگ جائے گا۔ اور پھر یہ کہہ کر چلا جائے گا کہ جا یار سر نہ کھا پہلے بہت ٹینشن ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم جو اتنا سرمایہ اور وقت بچوں کو "پڑھانے" پر لگا رہے ہیں، اس سے ان کو اس کے علاوہ کیا فائدہ ہے کہ ڈگری لیں اور نوکری کریں؟ یہ جو "پڑھانا" ہے اس میں "سِکھانا" کب شامل ہوگا؟ ہر شخص رٹا لگانے پر لگا ہوا ہے، علم کب حاصل کرے گا؟ آج کس نوجوان کے پاس علم ہے؟ ہاں علم ہے تو موبائل فون کا، گانوں کا، فلموں کا۔ زندگی کا علم کس کے پاس ہے؟ ہم یہاں کیوں آئے ہیں یہ کسے پتا ہے؟ سینہ تان کر اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے اپنے نبی کے اسوہ حسنہ سے کس قدر بہرہ ور ہیں؟ الماری کی اوپر والی شیلف پر جو غلاف میں لپٹی کتاب رکھی ہے، کوئی کیوں نہیں سوچتا کہ یہ اس رب کے الفاظ ہیں جس نے اسے اور یہ دنیا بنائی۔ وہ خدا تم سے ڈائریکٹ باتیں کرنا چاہتا ہے مگر تم اس کی سنتے ہی نہیں، اس کی کتاب کو لفٹ ہی نہیں کراتے۔ جیسے قرآن کی عربی کو طوطے کی طرح پڑھتے جاتے ہیں ویسے ہی اپنے سکول کالج یونیورسٹی کی کتابوں کو پڑھتے ہیں، کوئی اس بحر علوم کے اندر غوطہ کیوں نہیں لگاتا؟ کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مجھے اس مضمون کو رٹا مارنے کی بجائے سمجھنا چاہیے، دماغ میں بٹھانا چاہیے۔
میں آج شاہ صاحب سے کہہ رہا تھا کہ تم نے فرسٹ آ کر کون سا تیر مار لیا، پورے سکول میں مشہور تھے کہ یہ بچہ بہت ذہین ہے، بتاؤ اب تک کیا سیکھا ہے۔ مجھے دیکھو میں نے ماریں کھا لیں لیکن پڑھا نہیں یعنی علم کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ D:
ایک صوفی سے ملاقات
اتوار کو ڈیرہ غازی خان گیا۔ بھائی کے مرشد سے ملنا تھا۔ ملتان سے ڈی جی خان تک تقریباً دو گھنٹے لگے۔
ڈی جی خان زیادہ ترقی یافتہ شہر نہیں لگا۔ ویسے تو میں زیادہ گھوما بھی نہیں، لیکن جتنا دیکھا وہاں زیادہ پرانی عمارتیں تھیں جیسی تلمبہ میں پائی جاتی ہیں۔ ملتان سے ڈی جی خان راستے میں دریائے چناب اور دریائے سندھ آتے ہیں۔ چناب تو بھارت کی مہربانی اور ہماری قوم کی "بیداری" کی وجہ سے ایسے سوکھا پڑا تھا کہ بھائی نے کہا کہ اگر کوئی گدھا بھی یہاں فراغت حاصل کرے تو زمین زیادہ گیلی ہوگی۔ سندھ میں البتہ پانی تھا ماشاءاللہ۔ ہمیں اس وقت عقل آئے گی جب بھوک اور پیاس سے مر رہے ہوں گے، تب سوچیں گے کہ پانی کا کچھ کر لیتے۔ چوبیس گھنٹے ٹی وی پر طالبان کو کوریج مل رہی ہے، مجال ہے کہ میڈیا والے یہ بھی سوچ لیں کہ انہوں نے پاکستان میں رہنا ہے، کچھ اپنے ملک کے لیے سنجیدگی سے کچھ کر لیں۔
بھائی کے مرشد کے بارے میں میرا خیال تھا کہ کسی مسجد یا مدرسے میں رہتے ہوں گے اور لوگوں کا ٹھٹھ لگا ہوگا۔ مگر وہاں گیا تو دیکھا کہ قائد اعظم چوک کے پاس ایک پرانا سا کمرہ ہے جس میں ہومیوپیتھک کا کلینک کھلا ہے۔ ایک سفید ریش والے بزرگ بیٹھے ہیں، ان کے پاس ایک نسبتاً کم عمر شخص بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ یہاں سے مجھ پر پہلا مثبت اثر پڑا۔ مجھے ایسے لوگ پسند نہیں جو دنیا کو چھوڑ کر بالکل مسجد میں پڑ جائیں۔ حضرت نے بتایا کہ گزشتہ چھیالیس سال سے یہ کلینک چلا رہے ہیں۔ کبھی کبھی سارا دن کوئی مریض نہیں آتا لیکن پریشان نہیں ہوئے نہ فکر کی کہ روزی کہاں سے ملے گی۔
بزرگ کا نام خدا بخش قریشی ہے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ عمر ستر سال سے کچھ زیادہ ہوگی۔ ان کی ولایت کا یہ عالم ہے کہ بھائی کے پہلے والے شیخ کی عمر سو سال سے زائد تھی لیکن وہ جناب خدا بخش کے مرید تھے اور ان سے اسباق کی تکمیل کی تھی۔ وفات کے وقت انہوں نے بھائی کو وصیت کی کہ ان کے پاس جانا۔ ان کے مریدین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ دنیا کے طالب ہوتے تو ایک خانقاہ بناتے وہاں مریدوں کا مجمع لگاتے اور بینک بیلینس بناتے۔ دو سال سرکاری ہسپتال میں نوکری کی لیکن پھر "لین دین" کی وجہ سے چھوڑ دی۔ دولت نہیں لیکن ایسی حالت ہے کہ آپ دیکھ کر سوچ نہیں سکتے کہ یہ بوڑھا شخص کیا کمال رکھتا ہے۔
"الا بذکر اللہ تطمئن القلوب" کا مطلب انہیں دیکھ کر سمجھ آیا۔ ان کی چار بیٹیاں اور چار بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئے۔ اب صرف دو بیٹیاں ہیں۔ مکان اور کلینک کی حالت سے آثار عسرت نظر آتے ہیں، لیکن مجال ہے جو کسی مرید سے ایک روپے کا بھی مفاد حاصل کریں۔ ہم گئے تو پہلے چائے اور بسکٹ لائے۔ میں نے چھ ماہ سے چائے چھوڑ رکھی ہے لیکن ان کے خلوص کی وجہ سے پی لی۔ پھر فروٹ لے کر آئے۔ مجھ سے پچاس سال بڑے ہوں گے لیکن مجھے بھائی کہہ کر بلا رہے تھے اور کہا کہ آپ کی خدمت نہ کر سکا۔ تواضع اور خوش اخلاقی سے بھرپور شخصیت۔
آپ کو لگتا ہوگا کہ بزرگ بہت بور ہوتے ہیں، بس اللہ رسول کی باتیں ہی کرتے ہوں گے۔ لیکن یہ ایسے نہیں تھے۔ مجھ سے تعلیم کے بارے میں پوچھا اور اس بات پر بہت زور دیا کہ محنت کرو اور دل لگا کر تعلیم حاصل کرو۔ کہنے لگے کہ Law of Diminishing Utility دو چیزوں پر apply نہیں ہوتا، ایک علم اور دوسری دولت۔ میں ان کی زبان سے Economics کی یہ اصطلاح سن کر حیران ہوا تو بتایا کہ سن 55 میں ایف اے میں پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آگے کیوں نہیں پڑھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ "میں اللہ دی مہربانی نال انگریزی وچ فیل تھی گیا ہامی" اور ہنسنے لگے۔ "میکوں انگریزی تے تاریخ مشکل لگدی ہائی، حساب تے جغرافیہ ڈاڈھا امدا ہا۔" حساب دی ہر مشق دے سوالاں دے جواب یاد ہا"۔ بہت شگفتہ طبیعت اور خوش اخلاق مزاج کے مالک ہیں۔ آپ کو قطعاً بور نہیں ہونے دیں گے۔ اور اتنی عزت سے بلائیں گے کہ آپ شرمندہ ہونے لگیں گے کہ اتنا عمر رسیدہ اور عالم بزرگ آپ سے اتنے احترام سے بات کر رہا ہے۔
ان کے بیٹے نہیں ہیں تو خود ہی گھر کے سارے کام کرنے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بھی ماشاءاللہ سب کام کرتے ہیں، کلینک میں بیٹھتے ہیں اور مریدین کو تصوف کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ مجھے تو ان اللہ کے بندوں کی time management سمجھ نہیں آتی۔ ہم تو ایک ذرا سا کام کرنے لگیں تو سارا دن کھپ جاتا ہے اور کچھ اور نہیں ہوتا۔ یہ لوگ پتہ نہیں کیسے اتنے سارے کام کرتے ہیں۔ بھائی نے بتایا کہ وقت کا ایک طول ہوتا ہے اور ایک عرض؛ طول یعنی لمبائی اور عرض یعنی چوڑائی۔ وقت آگے تو سفر کرتا ہی رہتا ہے لیکن اللہ کے بندوں کے لیے وقت کا عرض یعنی time span پھیل جاتا ہے اور یہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شریعت پر بہت زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریعت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بعض لوگ تصوف کے نام پر عجیب کام کرتے ہیں، بعض دفعہ شریعت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ لیکن حضرت خدا بخش نے بار بار شریعت کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے نہیں چھوڑنا۔
میں نے ان سے کہا کہ depression بہت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھو، دن میں کم از کم ایک تسبیح درود شریف کی اور تین تسبیح کلمہ سوم کی ہو سکے تو پڑھ لو۔ "سبحان اللہ و الحمدللہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلیی العظیم" یہ کلمہ سوم بہت سی مشکلوں کا حل ہے۔ کہنے لگے کہ مجھے اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ واقعی جو شخص چھیالیس سال ایک ہی جگہ پر گزار دے اور اتنی اولاد فوت ہو جانے پر بھی ہنستا مسکراتا ملے تو اس کا دل واقعی پر سکون ہے۔
ہم ان کے پاس تقریباً دو گھنٹے بیٹھے۔ اتنی دیر میں لوگ پتہ نہیں کتنی غیبتیں اور بدخوئیاں کر لیتے ہیں۔ لیکن ان کی زبان سے کسی مسلک، فرقہ یا شخص کے متعلق ایک بھی برا لفظ نہیں سنا۔ مسکرانا اور ہنسنے والی بات پر ہلکا سا قہقہ لگانا۔ اور خوش اخلاقی کمال درجے کی۔ سکون قلبی اور اطمینان کی عمدہ مثال۔
ڈی جی خان زیادہ ترقی یافتہ شہر نہیں لگا۔ ویسے تو میں زیادہ گھوما بھی نہیں، لیکن جتنا دیکھا وہاں زیادہ پرانی عمارتیں تھیں جیسی تلمبہ میں پائی جاتی ہیں۔ ملتان سے ڈی جی خان راستے میں دریائے چناب اور دریائے سندھ آتے ہیں۔ چناب تو بھارت کی مہربانی اور ہماری قوم کی "بیداری" کی وجہ سے ایسے سوکھا پڑا تھا کہ بھائی نے کہا کہ اگر کوئی گدھا بھی یہاں فراغت حاصل کرے تو زمین زیادہ گیلی ہوگی۔ سندھ میں البتہ پانی تھا ماشاءاللہ۔ ہمیں اس وقت عقل آئے گی جب بھوک اور پیاس سے مر رہے ہوں گے، تب سوچیں گے کہ پانی کا کچھ کر لیتے۔ چوبیس گھنٹے ٹی وی پر طالبان کو کوریج مل رہی ہے، مجال ہے کہ میڈیا والے یہ بھی سوچ لیں کہ انہوں نے پاکستان میں رہنا ہے، کچھ اپنے ملک کے لیے سنجیدگی سے کچھ کر لیں۔
بھائی کے مرشد کے بارے میں میرا خیال تھا کہ کسی مسجد یا مدرسے میں رہتے ہوں گے اور لوگوں کا ٹھٹھ لگا ہوگا۔ مگر وہاں گیا تو دیکھا کہ قائد اعظم چوک کے پاس ایک پرانا سا کمرہ ہے جس میں ہومیوپیتھک کا کلینک کھلا ہے۔ ایک سفید ریش والے بزرگ بیٹھے ہیں، ان کے پاس ایک نسبتاً کم عمر شخص بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ یہاں سے مجھ پر پہلا مثبت اثر پڑا۔ مجھے ایسے لوگ پسند نہیں جو دنیا کو چھوڑ کر بالکل مسجد میں پڑ جائیں۔ حضرت نے بتایا کہ گزشتہ چھیالیس سال سے یہ کلینک چلا رہے ہیں۔ کبھی کبھی سارا دن کوئی مریض نہیں آتا لیکن پریشان نہیں ہوئے نہ فکر کی کہ روزی کہاں سے ملے گی۔
بزرگ کا نام خدا بخش قریشی ہے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ عمر ستر سال سے کچھ زیادہ ہوگی۔ ان کی ولایت کا یہ عالم ہے کہ بھائی کے پہلے والے شیخ کی عمر سو سال سے زائد تھی لیکن وہ جناب خدا بخش کے مرید تھے اور ان سے اسباق کی تکمیل کی تھی۔ وفات کے وقت انہوں نے بھائی کو وصیت کی کہ ان کے پاس جانا۔ ان کے مریدین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ دنیا کے طالب ہوتے تو ایک خانقاہ بناتے وہاں مریدوں کا مجمع لگاتے اور بینک بیلینس بناتے۔ دو سال سرکاری ہسپتال میں نوکری کی لیکن پھر "لین دین" کی وجہ سے چھوڑ دی۔ دولت نہیں لیکن ایسی حالت ہے کہ آپ دیکھ کر سوچ نہیں سکتے کہ یہ بوڑھا شخص کیا کمال رکھتا ہے۔
"الا بذکر اللہ تطمئن القلوب" کا مطلب انہیں دیکھ کر سمجھ آیا۔ ان کی چار بیٹیاں اور چار بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئے۔ اب صرف دو بیٹیاں ہیں۔ مکان اور کلینک کی حالت سے آثار عسرت نظر آتے ہیں، لیکن مجال ہے جو کسی مرید سے ایک روپے کا بھی مفاد حاصل کریں۔ ہم گئے تو پہلے چائے اور بسکٹ لائے۔ میں نے چھ ماہ سے چائے چھوڑ رکھی ہے لیکن ان کے خلوص کی وجہ سے پی لی۔ پھر فروٹ لے کر آئے۔ مجھ سے پچاس سال بڑے ہوں گے لیکن مجھے بھائی کہہ کر بلا رہے تھے اور کہا کہ آپ کی خدمت نہ کر سکا۔ تواضع اور خوش اخلاقی سے بھرپور شخصیت۔
آپ کو لگتا ہوگا کہ بزرگ بہت بور ہوتے ہیں، بس اللہ رسول کی باتیں ہی کرتے ہوں گے۔ لیکن یہ ایسے نہیں تھے۔ مجھ سے تعلیم کے بارے میں پوچھا اور اس بات پر بہت زور دیا کہ محنت کرو اور دل لگا کر تعلیم حاصل کرو۔ کہنے لگے کہ Law of Diminishing Utility دو چیزوں پر apply نہیں ہوتا، ایک علم اور دوسری دولت۔ میں ان کی زبان سے Economics کی یہ اصطلاح سن کر حیران ہوا تو بتایا کہ سن 55 میں ایف اے میں پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آگے کیوں نہیں پڑھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ "میں اللہ دی مہربانی نال انگریزی وچ فیل تھی گیا ہامی" اور ہنسنے لگے۔ "میکوں انگریزی تے تاریخ مشکل لگدی ہائی، حساب تے جغرافیہ ڈاڈھا امدا ہا۔" حساب دی ہر مشق دے سوالاں دے جواب یاد ہا"۔ بہت شگفتہ طبیعت اور خوش اخلاق مزاج کے مالک ہیں۔ آپ کو قطعاً بور نہیں ہونے دیں گے۔ اور اتنی عزت سے بلائیں گے کہ آپ شرمندہ ہونے لگیں گے کہ اتنا عمر رسیدہ اور عالم بزرگ آپ سے اتنے احترام سے بات کر رہا ہے۔
ان کے بیٹے نہیں ہیں تو خود ہی گھر کے سارے کام کرنے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بھی ماشاءاللہ سب کام کرتے ہیں، کلینک میں بیٹھتے ہیں اور مریدین کو تصوف کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ مجھے تو ان اللہ کے بندوں کی time management سمجھ نہیں آتی۔ ہم تو ایک ذرا سا کام کرنے لگیں تو سارا دن کھپ جاتا ہے اور کچھ اور نہیں ہوتا۔ یہ لوگ پتہ نہیں کیسے اتنے سارے کام کرتے ہیں۔ بھائی نے بتایا کہ وقت کا ایک طول ہوتا ہے اور ایک عرض؛ طول یعنی لمبائی اور عرض یعنی چوڑائی۔ وقت آگے تو سفر کرتا ہی رہتا ہے لیکن اللہ کے بندوں کے لیے وقت کا عرض یعنی time span پھیل جاتا ہے اور یہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شریعت پر بہت زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریعت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بعض لوگ تصوف کے نام پر عجیب کام کرتے ہیں، بعض دفعہ شریعت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ لیکن حضرت خدا بخش نے بار بار شریعت کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے نہیں چھوڑنا۔
میں نے ان سے کہا کہ depression بہت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھو، دن میں کم از کم ایک تسبیح درود شریف کی اور تین تسبیح کلمہ سوم کی ہو سکے تو پڑھ لو۔ "سبحان اللہ و الحمدللہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلیی العظیم" یہ کلمہ سوم بہت سی مشکلوں کا حل ہے۔ کہنے لگے کہ مجھے اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ واقعی جو شخص چھیالیس سال ایک ہی جگہ پر گزار دے اور اتنی اولاد فوت ہو جانے پر بھی ہنستا مسکراتا ملے تو اس کا دل واقعی پر سکون ہے۔
ہم ان کے پاس تقریباً دو گھنٹے بیٹھے۔ اتنی دیر میں لوگ پتہ نہیں کتنی غیبتیں اور بدخوئیاں کر لیتے ہیں۔ لیکن ان کی زبان سے کسی مسلک، فرقہ یا شخص کے متعلق ایک بھی برا لفظ نہیں سنا۔ مسکرانا اور ہنسنے والی بات پر ہلکا سا قہقہ لگانا۔ اور خوش اخلاقی کمال درجے کی۔ سکون قلبی اور اطمینان کی عمدہ مثال۔
اشتراک در:
پیامها (Atom)