اعلانِ بے اعتباری

اس بلاگ کا لکھاری دست بستہ عرض کرتا ہے کہ اس نے محض تفننِ طبع اور شہرت کی خواہش سے مغلوب ہو کر مندرجہ ذیل تحریریں لکھنے کی دل پشوری کی ہے۔
برائے مہربانی یاوہ گوئی کی ان بے تکی مثالوں کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے اور لکھاری کی 'کم عمری' اور نادانی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فتاویٰ جاری کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ شکریہ

آپ سے ملیے، آپ ایک بلاگر ہیں

آپ سے ملیے، آپ ایک بلاگر ہیں؛ علم و ہنر کا مرقع، تہذیب و ادب کے دلدادہ، زبان کی چاشنی اور قلم کی روانی آپ پر ختم ہے، لطافت و ظرافت میں کوئی آپ کا ثانی نہیں (ثالث کی بات اور ہے)۔

آپ کو بچپن سے ہی لکھنے کا بہت شوق تھا، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات؛ اس وقت بھی ایسا لکھتے کہ آپ کے استاذ محترم آپ کے لکھے ہوئے پر ایک طویل خط کھینچ کر مزید لکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔ تحریر کے معیار کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تمام کتب شائع کرنے والے آپ کے قلم کا جلال و جمال دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور ہاتھ کھڑے کر کے بولے کہ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ کے ان افکارِ عظمٰی کو سیاہی سے بدنما کریں۔ چنانچہ آپ نے انٹرنیٹ کو رونق بخشی۔

پبلشرز کی ناقدری اور حوادثِ زمانہ کی بے رحمی نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ نوعِ انسانی کی فلاح کا بیڑا اپنے دستِ شفقت میں لیں۔ چنانچہ آپ نے سیاست کی اندھیر نگریوں کو بے نقاب کرنے اور ملک و قوم کو اپنے دقیق تجزیوں سے باخبر کرنے کے لیے دھواں دار تحریریں لکھنا شروع کر دیں۔ ابتدا میں آپ نے چھ مضامین یومیہ کی شرح سے اپنے مخزنِ ہدایت بلاگ پر جہلا کی رہنمائی شروع کی۔ مگر جلد ہی رفتار ماند پڑ گئی کیونکہ عقل سے بے بہرہ قارئین آپ کے فقرات کو عامیانہ اور فرسودہ کہہ کر بے حرمت کرنے لگے، ایک عاقبت نا اندیش نے تو آپ کو گھٹیا اور چوَل تک کہہ دیا۔ یہ دشنام طرازی ایک کم ہمت شخص کو مایوس کرنے کے لیے کافی تھی، مگر آپ چونکہ پختہ عزم کے مالک تھے (والد صاحب بچپن میں پیار سے ڈھیٹ اور ضدی کہا کرتے تھے) چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ لکھنا نہ چھوڑیں گے، البتہ زمانے کی ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے موضوعِ سخن بدل دیا۔

اب آپ نے مسائل کی بنیاد یعنی معاشرتی ناہمواریوں اور سماجی تلخیوں پر بیش بہا جملے لکھنا شروع کیے۔ اوائلِ جوانی میں مضافات کی دوشیزاؤں کو اپنی خوبیوں سے آگاہ کرنے کی کاوشیں کرتے رہتے تھے، اب انہی تجربات کی روشنی میں بدنظری، فحاشی، ڈھٹائی اور دیگر لغویات کو طشت از بام کرنے لگے۔ ہاں کبھی کبھی مرد قارئین کے رکیک حملوں سے بچنے کے لیے یونہی لڑکی پٹانے، ذاتی دفاع اور دوڑنے چُھپنے وغیرہ کے طریقوں پر بھی سیرِ حاصل گفتگو کر دیا کرتے تھے۔ عوام الناس آپ کی سماجی ذمہ داری سے اتنا متاثر ہوئے کہ آپ کے بلاگ پر قارئین کی آمد تین گُنا بڑھ گئی۔ بعد میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری خدمات کی بناء پر اب لوگ ممنوعہ موضوعات پر بھی بحث کرنے لگے ہیں مگر بعض حاسد ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ میں نے بیہودگی کو فروغ دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ میری عزت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، اوپر والے کا کرم ہے ورنہ یہ کمینہ کس قابل ہے۔ (واضح رہے کہ اُن دنوں آپ کے مکان کے اوپر والے حصے میں ایک چھٹا ہوا بدمعاش رہا کرتا تھا اور آپ کی اس سے کافی بنتی تھی)

کچھ ہی عرصہ میں آپ نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب چراغوں میں وہ چمک باقی نہیں ہے، یعنی قارئین پھر سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں تو آپ کو خدا کی یاد آئی۔ مذہب سے قرار واقعی شناسائی تو بچپن سے ہی تھی کیونکہ آباء کا پیشہ مسلمانی تھا، چنانچہ آپ نے دین کا پرچار شروع کیا۔ حاسدین نے پھر واویلا مچانا شروع کر دیا کہ آپ فروعی معاملات کو لے کر امتِ مسلمہ میں فساد پڑوانے لگے ہیں۔ مگر آپ نے باطل کی شورش کے سامنے سر نہ جھکایا اور تیز و تند لہجے میں حقائق یعنی اپنے مسلک کی درستگی ثابت کرنے پر ڈٹے رہے۔ جب احباب نے خفیف انداز میں توجہ دلائی کہ آپ کے اکثر کلمات کے حوالہ جات کسی کتاب میں موجود نہیں ہیں، تو آپ نے وضاحت فرمائی کہ دین کا یہ فہم سینہ بہ سینہ آپ تک منتقل ہوا ہے؛ اور ویسے بھی ایمان کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پر تمام احباب نے معنی خیز انداز میں سر ہلائے۔

شومئی قسمت انہی دنوں وطنِ عزیز میں بعض متنازعہ مذہبی معاملات پر زبردست مہم شروع ہو گئی۔ آپ نے بھی اس امید پر عامتہ المسلمین کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی کہ شاید آپ کو بھی حکومت کسی قابل سمجھ کر دست اندازی کرے اور آپ شہرت کی بلندیوں کو چُھو جائیں۔ مگر جلد ہی آپ جان گئے کہ جو حکومت اپنی ویب سائٹوں کو ہی اپ ڈیٹ نہیں کرتی وہ آپ کے بلاگ کو کہاں درخوئے اعتنا جانے گی۔ ایسی بے قدری پر آپ اتنا سٹ پٹائے کہ زاہدِ خشک سے رندِ رنگیں و سنگیں ہو گئے، یعنی بازار سے سٹیج ڈراموں کی ایک درجن ڈی وی ڈیز لے آئے اور دو چار دن میں ہی سب دیکھ ڈالیں۔

زبان کی سلاست میں تو آپ پہلے ہی یکتا تھے، اب ذومعنی فقرات کی روانی نے آپ کی تحریروں کو عالمِ بلاگ میں روزِ روشن کی طرح تابناک کر دیا۔ آپ نے ہمہ قسم عنوانات پر ایسی ایسی جگتیں رسید کیں کہ پیشہ وروں کے کان بھی لال سُرخ ہو جائیں۔ سوشل نیٹ ورک پر آپ کا حلقہِ احباب وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور آپ لذتِ آشنائی سے ہمہ تن لطف اندوز ہونے لگے۔ پردہ نشین آپ کی صورت سے ہی کترانے لگے اور مے خوار آپ کی تال سے تال ملانے لگے۔ بلاگستان میں آپ نے اپنے لُچر پن سے وہ دھما چوکڑی مچائی کہ ناقدین رقصِ ابلیس سے مماثلت دینے لگے۔ ابلیس کو قیامت تک دوام ہے، یعنی اس کا رقص بھی تب تک جاری رہے گا۔ چنانچہ آپ بھی آج تک اپنے عزم و ہمت کے بل بوتے پر آزادیِ اظہار کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں اور کلامِ واہیات کی روانی، تبصروں کی فراوانی، اور شہرت کی جوانی سے بہرہ ور ہوتے جارہے ہیں۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔


(اگر آپ کو اس تحریر کا چربہ کرنے کا نادر خیال آئے تو لفظ بلاگر کو کالم نگار، رائٹر، اینکر پرسن، سیاستدان، یعنی تمام جملہ مفاسد سے بدل کر حسبِ ضرورت کام لیا جا سکتا ہے)

17 comments:

  1. لذیذ اور مزیدار
    بہت ہی عمدہ
    بس اب ایک لُچر سی پوسٹ میں اوپر رہنے والے پہلوان سے کس قسم کی اور کس حد تک بنتی تھی وہ بھی جی کڑا کر کے لکھ ہی ڈال
    :D

    پاسخحذف
  2. بڑی دیر نال آئے ہو۔
    ہاہاہاہا
    لیکن ٹھیک ٹائم پر آئے جی۔
    بہت خوب

    پاسخحذف
  3. مجھے یہ سب پڑھ کر گمان ہوا کہ ڈفر پر طنز کے تیر و نشتر برسائے جا رہے ہیں۔ کافی جملے تو ڈریکٹ ڈفر کی طرف اشارہ کرتے دکھائے دئے۔

    پاسخحذف
  4. پہلے تو واپسی پر خوش آمديد

    آپ کی تحرير ميں نے بغور پڑھی ۔پَر کَکھ پَلّے نئيں پےآ ۔
    اتنے دن جو غائب رہے کسی صحافی سے دوستی کر لی تھی کيا ؟
    يا پی ايچ ڈی کا تھيسِس تيار کر رہے ہيں ؟

    پاسخحذف
  5. قدیر احمد بولتا نہیں ہے، بولتا ہے تو کفن پھاڑ کر بولتا ہے۔ سچ ہے خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا، جب دیتا ہے تو وہ اپنا یہ حال کرلیتا ہے۔ بڑے عرصے بعد کوئی تحریر پڑھ کر سواد آیا ہے۔

    پاسخحذف
  6. بہت ہی زبردست لکھا ہے۔ یہ گتھی سلجھانے میں تو وقت لگے گا کہ یہ تحریر کس کو ڈیڈی کیٹ کی گئی ہے تاہم یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ایک عرصے بعد اردو بلاگ پر اس طرح کے ادبی انداز میں کسی کی بے ادبی پڑھی۔

    پاسخحذف
  7. آپ سے مجھے محترم ایک ہی شکایت رہی کہ میں اپنی دھھوتی اتنی نہیں بدلتا تھا جتنا آپ اپنا بلاگ کا پتہ بدلتے تھے۔

    پاسخحذف
  8. جو حکومت اپنی ویب سائٹوں کو ہی اپ ڈیٹ نہیں کرتی وہ آپ کے بلاگ کو کہاں درخوئے اعتنا جانے گی۔

    بہت عمدہ چوٹ اور تصویر کشی ہے۔ بس بلاگ کا لنک لگانا باقی بچا ہے۔ آپ نے بہرحال بلاگر کو بلاگر اور بلاگرہ دونوں کے معانی میں لکھا ہے۔

    آئینہ تحریر ہے۔

    پاسخحذف
  9. ایک اچھے شعر کی نشانی یہ بھی ہے کہ پڑھنے والا سمجھے کہ یہ تو شاعر نے میرے دل کا حال کہہ دیا جیسے غالب نے کہا تھا

    دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اُس نے کہا
    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

    آپ کی تحریر کی یہی خوبی ہے، نہ جانے کتنوں کو اپنا چہرہ نظر آیا اور کتنوں کو دوسروں کا، اس میں کوئی شاعری واعری ادب شدب ڈال دیتے تو مجھے بھی اپنا چہرہ نظر آ جاتا۔
    :)
    خوب لکھا قبلہ

    پاسخحذف
  10. "کیونکہ آباء کا پیشہ مسلمانی تھا"
    قدیر یہ فقرہ عمدہ لکھا ہے۔۔ پورے مضمون کو پڑھ کا لطف آیا۔۔ مجھے تو کچھ عکسی عکسی سا لگا ہے نا معلوم کیوں لوگ آدم بو آدم بو کررہے ہیں۔

    پاسخحذف
  11. welldone, really good

    پاسخحذف
  12. اپنے کمرے کو چُونا کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیالات آئے اور شام کو لکھ دیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے اس تحریر میں کسی خاص شخص کو چُونا لگایا ہے تو جان لیجیے کہ یہ عامتہ المصنفین کے طریقہِ واردات کا تجزیہ ہے۔


    انکل اجمل: بزرگوں سے سُنا اور پڑھا کہ کم بولو اور اچھا بولو، اب اندازہ ہوا ہے کہ زیادہ بولنے سے کتنا نقصان ہوتا ہے۔

    شارق: اور مجھے یہ شکایت ہے کہ آپ نے "بوریت" کا گلا بہت بے رحمی سے گھونٹا ہے۔

    پاسخحذف
  13. اچھا بلاگ ہے ایسے ہی شیئرینگ کرتے رہا کیجئے

    پاسخحذف